David Holland

چار سال ہوئے ہیں کہ میں نے کتے پالے ہیں۔ میرے 2 کتے کردار میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لیکن ان کی عادات میں مماثلت ہے، دونوں کو میرے پائوں چاٹنا پسند ہے!

لینی جس کی عمر دو سال ہے وہ ہمیشہ ایسا ہی کرتا ہے اور اس وقت تک وہ اس عمل کو کرتا رہتا ہے جب تک میں اس کا شکریہ ادا نہ کروں یا اپنے پائوں نہ پیچھے کر لوں۔ آج اسکی شفقت نے مجھے اس بدچلن عورت کی یاد دلا دی جو کافی دیر تک خداوند یسوع کے قدموں کا بوسہ لیتی رہی۔

لوقا اس سارے واقع کو بیان کرتا ہے۔ خداوند یسوع المسیح نے رومی صوبہ دار کے نوکر کو شفا دی، اور اس کے بعد نائین شہر میں ایک بیوہ کے بیٹے کو اس نے زندہ کیا۔ ہجوم کا برتائو بہت مختلف تھا۔" سب پر دہشت چھا گئی اور وہ خدا کی تمجید کر کے کہنے لگے کہ ایک بڑا نبی ہم میں برپا ہوا اور خدا نے اپنی امت پر توجہ کی" ۔ (لوقا 16:7)۔

یسوع المسیح کے کزن یوحنا بپتسمہ دینے والے کی خدمت کے دوران لوگ اس س پوچھتے تھے "کیا تو وہ نبی ہے؟" (یوحنا 21:1)۔ یہ سب اس لئے تھا کہ خدا نے موسی سے وعدہ کیا تھا :"میں تیری مانند ایک نبی برپا کرونگا اور اپنا کلام اس کے منہ میں ڈالونگا" (استثنا 18:18)۔

مذہبی فریسی موسی کی ساری باتوں کو جانتے تھے لیکن پھر بھی وہ مسیح خداوند سے عداوت رکھتے تھے۔ ایک فریسی جس کا نام شمعون تھا اس نے مسیح خداوند کو اپنے گھر دعوت پر بلایا، (لوقا 36:7 تا 50)۔ اس کا مقصد کیا تھا؟ کیا وہ جاننا چاہتا تھا کہ آیا یسوع ہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں موسی نے بتایا تھا؟

یہ یہودیوں کی روایت تھی کہ جب کوئی مہمان ان کے ہاں جاتا تو ان کے ملازم اس مہمان کے پائوں دھوتے۔ لیکن اس میزبان نے خداوند یسوع کے ساتھ ایسا نہ کیا۔ لیکن شمعون فریسی اس کے برعکس خداوند یسوع کو دیکھتا رہا کہ آیا یہ کون ہے۔

اس کھانے کے دوران ایک فاحشہ نے جب سنا کہ مسیح خداوند شمعون فریسی کے گھر میں ہے تو وہ اس کے پائوں کے پاس آکر کھڑی ہوئی اور وہ روتی رہی اور اپنے مالک کی محبت میں اپنے آنسوں بہاتی رہی، اور اس کے پائوں کو اپنے آنسوئوں سے بگھو دیا اور پھر اپنے بالوں سے پونچھا ۔ اس نے نہ صرف یہ کیا بلکہ وہ اس کے قدموں کا بوسہ لیتی رہی پھر بیش قیمت عطر اس کے پائوں پر ڈالا۔

اب وہ فریسی اس عورت کے کردار کو جانتا تھا اور وہ اپنے دل میں یوں سوچنے لگا :"اگر یہ شخص نبی ہوتا تو جانتا کہ جو اسے چھوتی ہے وہ کون ہے اور کیسی عورت ہے کیونکہ بدچلن ہے"۔ "جو میرے طالب نہ تھے میں انکی طرف متوجہ ہوا (یسعیاہ 5:65)۔ شمعون اپنے دل میں پورے اعتماد کے ساتھ سوچ رہا تھا کہ یسوع کوئی نبی نہیں ہے۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ خداوند یسوع اسکی سوچوں سے بھی واقف تھا اور اس نے اسے ایک تمثیل سنائی کہ کون زیادہ پیار کرتا ہے ۔ ( لوقا 41:7 تا 42)۔ جس کو زیادہ معاف کیا جاتا ہے وہ زیادہ محبت دکھاتا ہے! اور فریسی بھی اس بات سے متفق تھے۔ وہ عورت کی طرف متوجہ ہوا اور کہا، "تیرے گناہ معاف ہوئے ۔ تیرے ایمان نے تجھے بچا لیا سلامت چلی جا" ۔ (لوقا 48:7 اور 50)۔

اس کی گناہ آلودہ فطرت کے بارے میں یسوع جانتا تھا اور وہ جانتا تھا کہ اس کو نجات دہندہ کی ضرورت ہے۔ شمعون مذہبی لحاظ سے اندھا تھا۔ وہ دنیا کے لحاظ سے ایک عزت داد شخص تھا جو کوئی بھی برا کام نہیں کرتا تھا۔ لیکن وہ مکمل طور پر خدا کی محبت کے تجربے سے نا واقف تھا۔

اس کو سمجھے جو میں کہہ رہا ہوں۔ ہماری مسیحی زندگی کے لئے بہت ضروری ہے کہ ہم الہام کو سمجھیں، ہمیں دعا کرنی چاہیے، اپنی دہ یکی دینی چاہے، اور دوسروں کو خدا کے فضل کے بارے میں سکھانا چاہیے۔

ایک استاد ہوتے ہوئے میں پولوس رسول کی ہدایت سے واقف ہوں جو وہ تیمتھیس کو دیتا ہے: "اپنی اور اپنی تعلیم کی خبرداری کر" (1 تیمتھیس 16:4)۔

لیکن الہام سے بھی ایک اور اہم چیز ہے۔ جب خداوند یسوع مردوں میں زندہ ہوا اور وہ سمندر کے کنارے پطرس سے ملا، یسوع نے پطرس سے یہ نہیں پوچھا کہ کیا وہ اب تعلیم کو مکمل طور پر سمجھتا ہے ۔ اس نے پطرس سے تین بار پوچھا : " کیا تو مجھ سے محبت رکھتا ہے" (یوحنا 15:21 تا 17)۔

یہی سوال آج وہ ہم سے بھی پوچھتا ہے، "کیا آپ مجھ سے محبت رکھتے ہیں؟ اگر کرتے ہو تو میری بھیڑوں کو چرائوں"، (یوحنا 15:21تا 17)۔

اسی لئے میں آرٹیکل لکھتا ہوں ، کتب لکھتا ہوں سی ڈیز اور ویڈیو بلاگ کے زریعے لوگوں کو سکھاتا ہوں۔ یہ ہماری خدمت کی کنجی ہیں، جس کے وسیلہ سے آپ لوگ برکت پاتے ہیں۔